نئی دہلی، 30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں پر اپنے 2014کے فیصلہ میں ترمیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے آج واضح کیا کہ ہم جنس پرست عورت،مرد اور ہجڑے تیسری جنس نہیں ہیں۔جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس این وی رمن نے کہا کہ 15؍اپریل 2014کے حکم سے یہ مکمل طور پر واضح ہے کہ ہم جنس پرست عورت، مرد اورہجڑے لوگ ٹرانس جینڈر نہیں ہیں۔مرکز کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی )منندر سنگھ نے سماعت کے دوران کہا کہ سابقہ حکم سے یہ واضح نہیں ہے کہ ہم جنس پرست عورت، مرد اور مخنث ٹرانس جینڈر ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک وضاحت کی ضرورت ہے۔کچھ ٹرانس جینڈر کارکنوں کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل آنند گروور نے کہا کہ مرکز سپریم کورٹ کے 2014کے حکم کو گزشتہ دو سال سے یہ کہہ کرعمل درآمد نہیں کر رہا ہے کہ اسے ٹرانس جینڈرو کے معاملے پر وضاحت کی ضرورت ہے۔بنچ نے اے ا یس جی سے کہاکہ ہمیں درخواست کو فیس کے ساتھ کیوں نہیں مسترد کر دینا چاہیے ۔اس نے یہ بھی کہاکہ کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔درخواست کا تصفیہ کیا جاتا ہے۔